بھٹکل 12؍دسمبر (ایس او نیوز) کرناٹکا روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ملازمین کو ریاستی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کے زمرے میں شامل کرنے کا مطالبہ نہ ماننے پر کے ایس آر ٹی سی ملازمین نے ریاست گیر سطح پر احتجاج کرتےہوئے بس سروس بند کردی ہے۔ احتجاج کا یہ سلسلہ آج سنیچر کو بھی جاری ہے۔ کل جمعہ کو بھٹکل میں بس سروس جاری تھی البتہ کاروار، سرسی، یلاپور، منڈگوڈ، انکولہ وغیرہ علاقوں میں بس سروس بند تھی، مگر آج بھٹکل میں بس سروس روک دی گئی ہے اور بھٹکل میں بھی بس اسٹانڈ پر مسافر بس سروس نہ ہونے سے دشوار میں پڑ گئے ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ بنگلور، چکمنگلور، شموگہ اور ریاست کے کئی علاقوں میں سرکاری بس ملازمین نے اچانک ہڑتال شروع کرنے سے ہر طرف مسافر پریشان ہیں۔بس سروس بند ہوجانے سے ضلع سے باہر سفر کرنےکے مقصد سے بس اسٹانڈ پہنچنے والے مسافروں کو بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔
خیال رہے کہ اسی مطالبہ کے ساتھ جمعرات کے دن بنگلورو میں کے ایس آر ٹی سی ملازمین نے احتجاجی مظاہرا کیا تھا جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔ پولیس کے اس اقدام سے ناراض ہوکر جمعہ کے دن کے ایس آر ٹی سی ملازمین نے ریاست میں اچانک ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کیا جس کا اثرشمالی کینرا کے ڈانڈیلی ، یلاپوروغیرہ میں بھی دیکھنے کوملا، جہاں صبح ۷ بجے سے ۹ بجے تک ڈرائیور اور کنڈکٹر ڈیوٹی پر نکلنے کے بجائے دھرنے پر بیٹھ گئے۔
کاروار بس ڈپو منیجر نے ڈرائیورو ں اور کنڈکٹروں سے ملاقات کرکے انہیں سمجھابجھاکر ہڑتال ختم کرنے اور ڈیوٹی پر حاضر ہونے کے لئے راضی کرلیا۔ اس کے بعد ۱۰ بجے سے کاروار بس اسٹانڈ سے بس سروس بحال ہوگئی۔لیکن دوبارہ 12.30بجے پھر سے اچانک بیرونی اضلاع کے ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں نے بس اسٹانڈ میں ہی بسیں پارک کرکے ہڑتال شروع کردی۔جس کی وجہ سے ضلع سےباہر جانے والے مسافر بہت پریشان ہوگئے۔
منگلورو سےملی رپورٹ کے مطابق وہاں پر ہڑتال کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔ سرکاری بسیں حسب معمول سڑک پر دوڑتی رہیں۔ جبکہ ریاست کے بعض علاقوں میں کچھ منفی اثرات دیکھنے کو ملے اور مسافروں کو مشکلات سے گزرنا پڑا۔
بھٹکل اور کاروار سمیت ضلع کے اکثر علاقوں میں آج سنیچر صبح سے ہی سرکاری بس سروس بند ہے اور ملازمین نے احتجاج کرتےہوئے کہا ہے کہ جب تک اُن کے مطالبات پورے نہیں کئے جائیں گے وہ ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوں گے۔